اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو شیعیت نیوز سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مولانا سید ہاشم موسوی کو بلوچستا ن کی نا اہل پولیس و انتظامیہ نے علمدار روڈ پر واقع امام بارگاہ کے باہر سے گرفتار کرلیا ہے۔انہیں جمعۃ الوداع کے روز القدس ریلی نکالنے کے جرم میں گرفتار کرکے سٹی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس کی ایف آئی آر میں معروف عالم دین اور شورائے نظارت مجلس وحدت مسلمین کے رکن علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، ولایت جعفری اور بہت سے دیگر علمائے کرام کو بھی نامزد کرلیا گیا ہے.ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے براہ راست امریکی سفارتخانے کی ہدایات پر کوئٹہ میں جمعۃ الوداع کو یوم القدس ریلی کے انعقاد کرنے پر منتظمین کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے تھے جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا سید ہاشم موسوی کو تین ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں موجود امریکی سفارتکار نے ہزارہ قوم پرستوں سے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ ہزارہ قوم پرست افراد خود کو امریکا اور اسرائیل مخالف شیعوں سے الگ کریں اور ان کے خلاف کئے جانے والے آپریشن پر کسی قسم کا احتجاج یا مذمت بھی نہ کریں۔یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ کوئٹہ میں جہاں ایک طرف پولیس انتظامیہ شیعہ افراد کی نسل کشی میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے وہاں اپنی نااہلی کو دبانے کے لئے بے گناہ شیعہ افراد کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان انتظامیہ کوئٹہ میں یوم القدس کے روز ہونے والی دہشتگردانہ کاروائی میں برابر کی حصہ دار ہے اور دہشت گردوں کی سرپرست ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی آقاؤں امریکہ ،اسرائیل کی خوشنودی کے لئے کام کر رہی ہے۔دوسری جانب ملت جعفریہ کی تنظیموں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، علامہ امین شہیدی، مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا احمد اقبال، جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی، مولانا حسین مسعودی، علامہ باقر زیدی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عادل بنگش، عامر عباس طوری اور مولانا مقصود ڈومکی نے مولانا سید ہاشم موسوی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا سید ہاشم موسوی کو فی الفور رہا کیا جائے ۔رہنماؤں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شیعہ افراد کو کالعدم دہشت گردوں کا نشانہ بننے سے بچانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے تاہم ملت جعفریہ پاکستان بلوچستان حکومت کی جانب سے سید ہاشم موسوی کی بے جا گرفتاری پر خاموش نہین رہے گی اور ملک بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کوئٹہ میں 23 رمضان المبارک بروز جمعہ قبلۂ اول مسجد الاقصی کی آزادی، غزہ کی ناکہ بندی اور فلسطینی مسلمانوں پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایس او اور مجلس وحدت مسلمین نے جلوس نکالا جس پر صہیونیوں کے آلۂ کار دہشت گردوں نے بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 30 کے قریب حامیان قبلۂ اول شہید ہوگئے لیکن ظلم کی یہی انتہا نہ تھی بلکہ انسداد دہشت گردی نامی دہشت گرد فورس اور پولیس و ایف سی نے بھی مظاہرین پر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 70 سے بھی زیادہ ہوگئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے اجتناب کیا اور سی سی پی او کوئٹہ عابد نوتکانی نے کہا کہ جلوس کو میزان چوک جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی حالانکہ موصولہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان چوک میں پہلے سے واک تھرو گیٹ لگے ہوئے تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جلوس مقررہ روٹ سے گذرا تھا اور پولیس نے اسی بنا پر میزان چوک میں واک تھرو گیٹ نصب کئے تھے۔سی سی پی او کی اس بات سے مزید خدشے ابھرآتے ہیں کہ "اگر جلوس میزان چوک نہ جاتا تو یقینی طور پر بقول ان پر خودکش حملہ نہ ہوتا" اور ان میں سے ایک خدشہ یہ ہے کہ نوتکانی صاحب کو کیوں یقین ہے کہ اگر جلوس اس مقام پر نہ جاتا تو دہشت گردانہ کاروائی نہ ہوتی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس نے دہشت گردوں سے کہا تھا کہ اگر قبلۂ اول کے مجاہدین میزان چوک پر آئیں تو تم ان کو نشانہ بناؤ اور جتنے تم مارسکتے ہو مارو اور اس کے بعد ہم (سیکورٹی فورسز) فائرنگ کریں گے اور تمہارا ادہورا کام ہم مکمل کریں گے؟ یہ سوال نہتے مجاہدین مسجد الاقصی پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ، مقدمہ درج کرنے سے انکار اور سید ہاشم موسوی کی گرفتاری جیسے مشکوک سرکاری اقدامات کی وجہ سے ابھر آیا ہے جس کا جواب سرکار پاکستان کو ہی دینا پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110